Social

مذاکرات کا دوسرا دور؛ پاکستان نے افغانستان کو دہشتگردی کی روک تھام کا جامع پلان دیدیا

استنبول (نیوزڈیسک) ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں پاکستان نے افغانستان کو دہشتگردی کی روک تھام کا جامع پلان دیدیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ختم ہوچکا ہے، جس میں پاکستان نے طالبان کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ایک جامع پلان دیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات استنبول کے مقامی ہوٹل میں ہوئے جس کی میزبانی ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے کی۔
ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور 9 گھنٹے سے زائد تک جاری رہا، مذاکرات میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ پاکستان کا یک نکاتی ایجنڈا رہا، مذاکرات میں قطر میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، پاکستان کی طرف سے 2 رکنی وفد مذاکرات میں شریک ہوا ، افغانستان کے نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ مجیب نے افغان طالبان کے وفد کی قیادت کی۔


ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ اگر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات سے معاملات طے نہ پائے تو پھر افغانستان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے، افغانستان ہمارے خلاف بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے، حالاں کہ ہم نے 40 سال تک افغانوں کی مہمان نوازی کی، دوحہ میں جن سے بات کر رہے تھے وہ سارے پاکستان میں جوان ہوئے، افغان مہاجرین نے روزگار اور کاروبار پر قبضہ کیا ہوا ہے، سمجھ نہیں آتا اتنی مہمان نوازی کے باوجود افغانستان کا ہمارے ساتھ ایسا رویہ کیوں ہے؟۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمارا صرف ایک ایجنڈا ہونا چاہیئے کہ ہم اخوت کے ساتھ ہمسائے کے ساتھ رہیں، پچھلے 4، 5 روز سے کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، اگر مذاکرات سے معاملات طے نہیں پاتے تو پھر افغانستان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے، کیوں کہ پہلے ہی دہشت گردی کے باعث ہماری افواج اور پولیس اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، ہم اور آپ اس لیے چین سے سوتے ہیں کہ آپ کے محافظ جاگ رہے ہوتے ہیں۔


اس خبر پر اپنی راۓ کا اظہار کریں

RATE HERE


آپ کا نام


آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

آپکا ای میل ایڈریس


آپنا تبصرا لکھیں
Submit

Comments

اشتہار



مزید پڑھیں
tml> Tamashai News Tv