اسلام آباد (نیوزڈیسک) عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے تناظر میں مشیرِ وزارتِ خزانہ خرم شہزاد کا ایک عجیب و غریب بیان سامنے ایا ہے، انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں کا بوجھ برداشت کرنے کے حوالے سے طبقاتی فرق کی وضاحت کے دوران انوکھی منطق پیش کردی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ کے مشیر اور ممتاز ماہرِ معیشت خرم شہزاد نے پیٹرول کی قیمتوں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اصل اثر غریب عوام یا موٹر سائیکل سواروں پر نہیں، بلکہ ملک کی اشرافیہ اور بڑی گاڑیوں کے مالکان پر پڑتا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کے دوران پیٹرولیم لیوی اور قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے خرم شہزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ پیٹرول کی قیمت کا فرق مجھے، آپ کو اور ایلیٹ کلاس کو پڑتا ہے، بڑی گاڑیوں اور کار والوں کو اس سے فرق پڑتا ہے، موٹر سائیکل چلانے والے عام آدمی کو اس حد تک فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کا فیول کنزمپشن بہت محدود ہوتا ہے، انہیں تو سبسڈی مل رہی ہے۔ اس حوالے حکومتی مؤقف یہ رہا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور عالمی بحران کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بہت اوپر گئی ہیں لیکن پاکستان نے عالمی دباؤ کے باوجود قیمتوں کو ایک حد میں رکھنے کی کوشش کی ہے، حکومت عام آدمی پر پڑنے والے معاشی بوجھ سے پوری طرح آگاہ ہے، اسی لیے مخصوص اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور صوبائی حکومتوں کی مدد سے موٹر سائیکل مالکان کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، حکومت صرف مستحق موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول پر ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہی ہے،
مزید پڑھے
