
اسلام آباد (نیوزڈیسک) خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کے خلاف سخت ترین مؤقف اختیار کرتے ہوئے صوبے بھر میں احتجاج کی کال دے دی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور صوبے کے ساتھ ہونے والی مبینہ معاشی ناانصافیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی نے وفاق پر صوبے کو دیوار سے لگانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے تمام اراکینِ صوبائی اسمبلی کو جمعہ کے روز ہر شہر میں بھرپور احتجاج کی ہدایت کردی، اور خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آنے والے منگل کو ان کا رویہ مزید سخت ہوگا، پارٹی کے اندر تمام مبینہ اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور اب پورا پاکستان دیکھے گا کہ پی ٹی آئی ایک مٹھی ہو کر میدان میں نکل رہی ہے، جمعہ کا احتجاج وفاق کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ کے لیے نہتے سیاسی کارکنوں پر گولیاں چلانا آسان ہے، لیکن عمران خان کو ہسپتال لانا مشکل بنا دیا گیا ہے، ہم میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ خدا نخواستہ آپ نے عمران خان کے ساتھ جیل میں کچھ کیا تو نہیں ہے؟ سائفر کے نتیجے میں ہونے والی رجیم چینج نے پاکستانیوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، ملک میں دانستہ طور پر نفرتیں بڑھائی جا رہی ہیں اور خیبر پختونخواہ کے عوام کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، جس کا حتمی نقصان صرف اور صرف پاکستان کا ہوگا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ عام آدمی کا تحفظ کہاں ہے؟ اگر یہ ایک صوبے کے منتخب وزیر اعلیٰ اور اس کی کابینہ کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیں، تو عام آدمی کے ساتھ کیا کرتے ہوں گے؟ خیبر پختونخواہ وفاق کو اپنے قدرتی وسائل بجلی اور گیس دے رہا ہے، لیکن بدلے میں پنجاب نے کے پی کے لیے گندم بند کر دی ہے، وفاقی حکومت صوبے کو اس کا جائز آئینی حصہ نہیں دے رہی، این ایف سی ایوارڈ اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے اربوں روپے روک لیے گئے ہیں، صوبے کے وزیر اعلیٰ کے سامنے فورس کھڑی کی جا رہی ہے اور ہمارے پارلیمنٹیرینز کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے-
Comments