Social

وفاقی حکومت چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پروائس چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر کرے گی۔ سیکشن 176 سی میں ترمیم کا متن

اسلام آباد (نیوزڈیسک) قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ایکٹ، ایئرفورس ایکٹ اور نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی ہے، تینوں بل وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیے۔ بل کے متن کے مطابق سیکشن 176 سی میں ترمیم کے تحت وفاقی حکومت چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وائس چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر کرے گی، وائس آرمی چیف اپنے اختیارات اور فرائض آرمی چیف کی ہدایات کی روشنی میں سرانجام دیں گے، سیکشن بی میں حکومت کا لفظ تبدیل کرکے آرمی چیف کی سفارش پر تقرری کی جائےگی۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کو مزید تین سال کیلئے دوبارہ تعینات کیا جاسکے گا۔ آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹیفکیشن جاری ہوگا، نئے نوٹیفکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ شروع ہوگی۔

چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی وزیراعظم کریں گے۔چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تقرری کے روز سے 5سال کیلئے ہوگا۔

قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا، یہ بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے منظوری کے لیے پیش کیا۔ مجوزہ آرمی ایکٹ کے تحت آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹی فکیشن جاری ہو گا۔مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ نئے نوٹی فکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہوگی۔ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے، مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔
مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کو تین سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔ آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے،عہدے کی مدت 5 سال ہو گی، وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کریں گے۔ ان کی تقرری کی مدت اس دن سے شروع ہوگی جب تعیناتی ہو گی۔
اعظم نذیر نے کہا کہ قانون نے وضاحت کی ہے چیف آف ڈیفنس کا عہدہ اپوائنٹمنٹ سی5 سال کا ہوگا۔ وزیر قانون نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے قانون سازی کی منظوری دی ہے، 27 ویں آئینی ترمیم پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، آئینی عدالت قائم ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں بھی کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں، اس سے متعلق 3 قوانین میں ترمیم کی سمریاں وزارت دفاع سے آئی ہیں،ہمیں سپلیمنٹری ایجنڈہ پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔حکومت کو سپلیمنٹری ایجنڈہ پیش کرنے کی اجازت دے دی گئی جس پر حکومت نے قومی اسمبلی میں 4 بلز پیش کئے اور بلز کی شق وار منظوری کے بعد پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025، پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025 اور پاکستان ایئرفورس ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی گئی۔
وزیراعظم شہبازشریف بھی قومی اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے، انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں ایک بات کا ذکر کرنا بھول گیا تھا کہ ایم کیو ایم کی ترمیم کو ہم نے سپورٹ کیا لیکن ترمیم کا حصہ نہ بن سکی ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ حلیف جماعتوں سے مشورہ کرکے معاملہ حل کریں گے۔


اس خبر پر اپنی راۓ کا اظہار کریں

RATE HERE


آپ کا نام


آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

آپکا ای میل ایڈریس


آپنا تبصرا لکھیں
Submit

Comments

اشتہار



مزید پڑھیں
tml> Tamashai News Tv