
لاہور (نیوزڈیسک) پنجاب کی وزیراطلاعات و نشریات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے کسی ملاقات سے نہیں روکا، مریم نواز کا جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتیں کرانے سے کوئی لینا دینا نہیں، وہ کبھی کسی سرکاری افسر کے کام میں مداخلت نہیں کرتیں۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنیں اڈیالہ کے باہر وقت ختم ہونے کے بعد جان بوجھ کر بیٹھی رہتی ہیں اور تصویریں بنانے کے لیے مختلف یوٹیوبرز ان کے اردگرد ہوتے ہیں، اگر کوئی تشدد کا واقعہ ہوا ہوتا تو اس کی ویڈیو ہوتی لیکن پی ٹی آئی نے بس خبر بنانی ہوتی ہے، کسی جیل میں کسی سیاسی میٹنگ کی اجازت نہیں، جیل رولز کو فالو کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کے خط پر ردعمل میں عظمی بخاری نے کہا وزیراعلی پنجاب کبھی بھی کسی سرکاری افسر کے کام میں مداخلت نہیں کرتیں، جیل رولز کے تحت سیاسی میٹینگز کی اجازت نہیں ہوتی اور جیل سپرٹنڈنٹ اس حوالے سے فائنل اتھارٹی ہے، جیل حکام قیدی کے عزیز و اقارب سے ملاقاتیں کراتے ہیں، جس کے لیے ملاقاتیوں کے نام قیدی کی طرف سے دیئے جاتے ہیں، اگر کوئی قیدی کسی سے نہیں ملنا چاہتا تو جیل حکام زبردستی اس کی ملاقات نہیں کراسکتے۔
وزیراطلاعات پنجاب کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ہفتے میں دو دن ملاقاتیں ہوتی ہیں، اب تک بانی پی ٹی آئی سے ان کے وکلاء کی 420 اور فیملی کے لوگوں کی 189 ملاقاتیں ہوچکی ہیں، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے اہلخانہ کی ملاقاتیں اس سے الگ ہیں، پھر بھی ہر ہفتے جیل کے باہر جلسہ کیا جاتا ہے، جھوٹ بولا گیا کہ اڈیالہ کے باہر پانی پھینکا گیا، سہیل آفریدی ہمیں قانون پڑھانے سے پہلے خود قانون پڑھیں، سہیل آفریدی خط لکھنے سے پہلے کسی وکیل سے پوچھ لیتے۔
عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ کاش وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے جیل قوانین پڑھ لیے ہوتے، مریم نواز کا قیدیوں سے ملاقات کے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں، وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو سہیل آفریدی کے خط کا جواب دینے کی ضرورت نہیں، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز قید میں خود پر بیتی کسی بات کو ڈسکس بھی نہیں کرتیں، ان موصوف کو تو باقاعدہ اٹیچ باتھ روم وِد کموڈ بنا کر دیا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی اہلِ خانہ سے 189 ملاقاتیں ہوچکی ہیں 190 بھی ہو جائیں گی، ملاقات ہو جائے گی لیکن ملاقات کرنے اور ڈرامے میں فرق ہے۔ ،
Comments