Social

ضمنی الیکشن؛ این اے 104 میں پولنگ ختم ہونے سے پہلے ہی فارم 45 اور 46 سامنے آنے کی شکایات، آزاد امیدوار رانا عدنان کا الزام

فیصل آباد (نیوزڈیسک) ضمنی الیکشن کے دوران قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 104 میں پولنگ ختم ہونے سے پہلے ہی فارم 45 اور 46 سامنے آنے کی شکایات رپورٹ ہوئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آزاد امیدوار رانا عدنان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ہم نے فارم پولنگ اسٹیشن سے پکڑے ہیں جہاں پولنگ ایجنٹس سے زبردرستی دستخط کرائے جارے تھے، ہم نے الیکشن کمیشن کو تحریری شکایت بھجوادی ہے‘، اس معاملے پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے مؤقف دیا کہ ’ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں، اور پولیس کو موقع پر بھیج دیا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جن میں قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقے شامل ہیں، پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، سرگودھا، میانوالی، مظفرگڑھ اور ہری پور میں ووٹنگ ہوئی، الیکشن کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخاب کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، 2ہزار 792 پولنگ سٹیشنز میں سے 408 انتہائی حساس اور 1ہزار 32 حساس قرار دیئے گئے جہاں دو ہزار سے زائد اہلکار سکیورٹی کیلئے تعینات تھے۔

بتایا گیا ہے کہ این اے 18 ہری پور میں ضمنی انتخاب میں 9 امیدوار میدان میں تھے، پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز، ن لیگ کے بابر نواز خان اور پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے، یہ نشست پی ٹی آئی کےعمر ایوب کی 9 مئی کیس میں سزا اور نااہلی کے بعد خالی ہوئی، اسی طرح این اے96 فیصل آباد کے انتخابی معرکے میں مسلم لیگ، پیپلزپارٹی اور آزاد امیدواروں سمیت 16 امیدوار مدمقابل ہیں، حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 72 ہزار 133 جبکہ خواتین ووٹرز2 لاکھ 72 ہزار 991 ہے جب کہ این اے 104 میں ن لیگ کے راجہ دانیال اور آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید سمیت پانچ امیدوار میدان میں ہیں، قومی اسمبلی کے حلقے میں کل 5 لاکھ 57 ہزار 637 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
علاوہ ازیں لاہور سے این اے 129قومی اسمبلی کی نشست پر مسلم لیگ ن کے حافظ محمد نعمان، آزاد امیدوار بجاش خان نیازی اور ارسلان احمد کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، حلقے میں مجموعی طور پر 3 سو 34 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گے ہیں جبکہ 70 پولنگ سٹیشنز مرد و خواتین کے مشترکہ ہوں گے، این اے 129 کی نشست میاں اظہر کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی جب کہ این اے 143 پنجاب کے شہر ساہیوال کا تیسرا بڑا حلقہ ہے اِس میں بھی مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ے، حلقے میں رجسٹر ووٹرز کی تعداد 5لاکھ 84ہزار 698 ہے، اسی طرح این اے 185 میں مسلم لیگ ن کے مقابلے میں پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار میدان میں اُتارا ہے اس حلقے میں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور جےیوآئی کے امیدواروں کے درمیان زبردست مقابلہ متوقع ہے۔


اس خبر پر اپنی راۓ کا اظہار کریں

RATE HERE


آپ کا نام


آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

آپکا ای میل ایڈریس


آپنا تبصرا لکھیں
Submit

Comments

اشتہار



مزید پڑھیں
tml> Tamashai News Tv