Social

ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور حملے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج جاری، بی ڈی یو رپورٹ بھی سامنے آگئی ؛ رپورٹ کے مندرجات

پشاور (نیوزڈیسک) صوبہ خیبرپختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کردی گئی، واقعے سے متعلق بی ڈی یو کی رپورٹ بھی سامنے آگئی۔ تفصیلات کے مطابق مختلف کیمروں سے حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں تینوں حملہ آوروں کو ایک موٹرسائیکل پر سوار ہوکر سفر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، شروع میں حملہ آور روڈ پر رانگ سائیڈ سے آئے جنہوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب پہنچ کر دکان کے پاس اپنی موٹرسائیکل کھڑی کی، فوٹیج میں پہلے خودکش حملہ آور کو ہیڈکوارٹر کے باہر انتظار کرتے ہوئے دیکھا گیا، فوٹیج میں حملہ آور کے قریب طلباء اور گاڑیوں کو بھی گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹوپی پہنا یہ حملہ آور چادر سے بار بار اپنا چہرہ چھپاتا رہا، اس کے بعد وہ کچھ فاصلے تک پیدل چلتا ہوا دکھائی دیا، جس کے بعد حملہ آور نے ایف سی ہیڈکوارٹر گیٹ پر دھماکہ کیا، جس کے دھوئیں میں دو حملہ آور اندر داخل ہوئے، تاہم بکتربند گاڑی نے ان کا راستہ روک لیا جس کی وجہ سے وہ پارکنگ ایریا میں چلے گئے، فوٹیج میں حملہ آوروں کو پارکنگ سے باہر نکلنے کی بار بار کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا، فوٹیج میں پارکنگ میں ہونے والے دھماکے کا منظر بھی دکھائی دیا۔

بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ دھماکہ خودکش تھا اور ریموٹ کنٹرول کے کوئی شواہد نہیں ملے، حملے میں دہشت گردوں نے 20 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا، جو جیکٹس میں آگے اور پیچھے دو حصوں میں تقسیم تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ تباہی ممکن ہو، دھماکے کے اثرات 30 میٹر تک پہنچنے کے قابل تھے، جائے وقوعہ سے 8 دستی بم، دو فٹ پرائما کورڈ، دو ملی میٹر سائز کے بال بیرنگ اور دو فٹ لمبی ایک کٹی ہوئی تار بھی برآمد ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمام شواہد لیبارٹری تجزیئے کے لیے جمع کرلیے گئے ہیں، حملہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا لیکن بروقت جوابی کارروائی کی وجہ سے بڑا نقصان ٹل گیا، اس حملے میں تین ایف سی کے جوان شہید ہوئے، پانچ جوان اور آٹھ شہری زخمی ہوگئے، یہ حملہ پشاور کے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک ہے۔


اس خبر پر اپنی راۓ کا اظہار کریں

RATE HERE


آپ کا نام


آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

آپکا ای میل ایڈریس


آپنا تبصرا لکھیں
Submit

Comments

اشتہار



مزید پڑھیں
tml> Tamashai News Tv