
اسلام آباد (نیوزڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر قانونی قبضہ سے متعلق کیس میں قرار دیا ہے کہ ملزم کی وفات کے باوجود زمین کے قبضے سے متعلق تنازع ختم نہیں ہوتا،عدالتِ عالیہ کو یہ معاملہ دوبارہ قانون کے مطابق نمٹانا ہوگا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق عدالت نے پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ کے 21 مارچ 2022 کے فیصلے کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے قبضے کی بحالی کے معاملے کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس ااشتیاق ابراہیم نے تین رکنی بینچ کا فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی قبضہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مجرمانہ سزا کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے شہری (سول) اثرات برقرار رہتے ہیں اس لیے ملزم کی موت کے باوجود اس حصے میں اپیل قابلِ سماعت رہتی ہے۔
شکایت گزار محمد خورشید خان ایڈووکیٹ نے 11 مرلہ اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضے کے خلاف 2005 کے غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے 2015 میں ملزم دوست محمد خان کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم عمر اور صحت کے باعث انہیں پروبیشن پر رہا کرتے ہوئے ایک ماہ میں قبضہ واپس کرنے کا حکم دیا تھاجبکہ دیگر چار ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔بعد ازاں اپیل کے دوران ملزم دوست محمد خان کا انتقال ہوگیا جس کے نتیجے میں سزائے قید سے متعلق اپیل از خود بخود ختم ہوگئی تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قبضے کی بحالی کا معاملہ قانون کے تحت زندہ رہتا ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ 2005 کا ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جو زمین کے مالکان کو فوری تحفظ اور قبضہ واگزاری کا مؤثر طریقہ فراہم کرتا ہے۔فوجداری ضابطہ کے تحت ملزم کی موت پر اپیل تو ختم ہو جاتی ہےمگر قبضے کی بحالی جیسے شہری نتائج پر یہ اصول لاگو نہیں ہوتا۔قانون کے مطابق زمین واگزار کرنے کے حکم کو ملزم کے ورثا سمیت کسی بھی شخص کے خلاف نافذ کیا جاسکتا ہے جو اس کے ذریعے دعویٰ رکھتا ہو۔عدالت نے ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ ملزم کے ورثا کو سن کر زمین کے قبضے سے متعلق فیصلے کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔فیصلے میں ملزم کی سزا بڑھانے سے متعلق درخواست برقرار رکھی گئی تاہم قبضے کی بحالی کے حصے میں فیصلہ کالعدم قرار دے کر معاملہ واپس پشاور ہائی کورٹ بھجوا دیا گیا۔
Comments