Social

عمران خان کی جیل سے ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد ہونے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد (نیوزڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور جیل سے ہسپتال منتقلی کا معاملہ اب ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ پہنچ گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل میں کئی اہم قانونی اور طبی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جس میں انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی، یہ پٹیشن عمران خان کے سپیشل پاور آف اٹارنی نعیم حیدر پنجوتھہ کے ذریعے سپریم کورٹ کئے وکیل ایڈووکیٹ عذیر بھنڈاری نے دائر کی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم قانون اور حقائق کے منافی ہے، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے، درخواست میں سب سے بڑا اعتراض اس میڈیکل بورڈ پر اٹھایا گیا ہے جسے ہائیکورٹ نے تشکیل دیا تھا، درخواست گزار کا موقف ہے کہ عدالت نے ان ہی ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ بنایا جو پہلے ہی عمران خان کا معائنہ کر چکے ہیں، لہٰذا ان سے شفاف رپورٹ کی توقع نہیں کی جا سکتی، عمران خان کا علاج ان کے ذاتی معالج اور خاندان کے افراد کی موجودگی میں کیا جائے اور وکلاء کو بھی ملاقات کی اجازت دی جائے۔

اس کیس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ درخواست عمران خان کے دستخط شدہ تازہ وکالت نامے کے بجائے سپیشل پاور آف اٹارنی کے ذریعے دائر کی گئی ہے، درخواست میں اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جیل حکام بانی پی ٹی آئی سے تازہ وکالت نامہ لینے کی اجازت نہیں دے رہے، جس کی وجہ سے مجبوراً پاور آف اٹارنی کا سہارا لینا پڑا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جیل میں ہی میڈیکل بورڈ کے ذریعے علاج کی ہدایت کی تھی، پی ٹی آئی کی قیادت مسلسل عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور ان کا معائنہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹروں سے کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے، اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں کہ آیا عدالتِ عظمیٰ بانی پی ٹی آئی کو ان کی مرضی کے مطابق علاج کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیتی ہے یا نہیں۔


اس خبر پر اپنی راۓ کا اظہار کریں

RATE HERE


آپ کا نام


آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

آپکا ای میل ایڈریس


آپنا تبصرا لکھیں
Submit

Comments

اشتہار



مزید پڑھیں
tml> Tamashai News Tv