
نیو یارک (نیوزڈیسک) امریکا ایران کے خلاف فوجی آپریشن پر 85 ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر چکا ہے۔تاس نے ایران وار کاسٹ ٹریکر پورٹل کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ کے 79 دنوں میں فوجی آپریشن پر امریکی اخراجات 85 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔پورٹل کا ریئل ٹائم ٹریکر 10 مارچ کو امریکی کانگریس کے لیے پینٹاگون کی بریفنگ پر مبنی ہے جس کے دوران حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے پہلے چھ دنوں کے دوران 11.3 بلین ڈالر خرچ کیے اور اس کے بعد جنگ پر یومیہ اضافی ایک بلین ڈالر خرچ کرنے کا تخمینہ تھا۔
ذرائع کے مطابق خرچ کی گئی کل رقم اس تخمینے سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے جو اس سے قبل قائم مقام امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف آرمی فار فنانشل مینجمنٹ جولز ہرسٹ نے پیش کیا تھا۔
امریکی ایوان نمائندگان کی ایپراپری ایشنز کمیٹی کی سماعت کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ امریکا نے ایران کے خلاف فوجی آپریشن پر تقریباً 29 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی، 7 اپریل کو امریکی صدر نے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی باہمی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ ایرانی حکومت کے مطابق 40 دنوں کی جنگ میں 3,375 ایرانی شہری امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں مارے گئے ، ان میں ایران کےجنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک پرائمری سکول پر حملہ بھی شامل ہے جس میں کم از کم 160 سے 200 کے قریب افراد مارے گئے جن میں اکثریت کم عمر طالبات کی تھی۔
Comments