
نیو یارک (نیوزڈیسک) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ جنگ کا اصل مقصد صرف جوہری تنصیبات کی تباہی نہیں بلکہ تہران میں حکومت کی تبدیلی کا ایک خفیہ منصوبہ تھا، جس کے تحت سابق صدر محمود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی تیاری کی گئی، تاہم یہ منصوبہ اپنی پیچیدگیوں اور آپریشنل غلطیوں کے باعث بری طرح ناکام ہوگیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر آپریشن ایپک فیوری تیار کیا تھا، اس کا بنیادی مقصد ایرانی قیادت کو ختم کر کے ملک میں انتظامی خلا پیدا کرنا تھا تاکہ ایک ایسی متبادل حکومت لائی جا سکے جو مغرب کے لیے قابلِ قبول ہو، اس منصوبے کے مرکز میں سابق صدر محمود احمدی نژاد تھے، جن کے حالیہ برسوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ شدید اختلافات پیدا ہو چکے تھے، واشنگٹن کا خیال تھا احمدی نژاد کی عوامی مقبولیت اور موجودہ نظام سے ان کی دوری کو استعمال کرکے انہیں نیا سربراہ بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ایک فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی، جس کے بعد ملک سوگ میں ڈوب گیا، اسرائیلی منصوبہ سازوں کا خیال تھا قیادت کا خاتمہ ایران کے دفاعی نظام کو مفلوج کر دے گا، لیکن اس حملے میں وہ اعتدال پسند ایرانی حکام بھی مارے گئے جن سے امریکہ تعاون کی امید لگائے بیٹھا تھا، جس نے پورے منصوبے کو الٹ کر رکھ دیا۔
رپورٹ میں تہران کے علاقے نارمک میں ہونے والی ایک خفیہ کارروائی کی تفصیلات بتائی گئی ہیں کہ اسرائیلی فضائیہ نے محمود احمدی نژاد کے گھر کے باہر تعینات پاسدارانِ انقلاب کی سیکیورٹی پوسٹ کو تباہ کردیا، اس کارروائی کا مقصد احمدی نژاد کو نظر بندی سے آزاد کرانا تھا تاکہ انہیں علی خامنہ ای کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکے، حملے میں احمدی نژاد معمولی زخمی ہوئے، لیکن اس ہولناک تجربے نے انہیں اس قدر مایوس اور خوفزدہ کر دیا کہ وہ منظرِ عام سے غائب ہوگئے، جس سے اسرائیل کا پورا منصوبہ ادھورا رہ گیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے اہداف صرف ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیت کو ختم کرنے تک محدود تھے اور امریکی فوج نے اپنے تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں‘، تاہم نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے کرد جنگجوؤں کو متحرک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اہم تنصیبات کی تباہی کے باوجود ایران میں کوئی بڑی عوامی بغاوت سامنے نہیں آئی، ایرانی قیادت نے شدید دباؤ اور سپریم لیڈر کی موت کے باوجود نظام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔
Comments